خبردار : عام استعمال کی جانے والی 6 ادویات کے 7 بیچز جعلی قرار

کراچی : سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے عام استعمال طور پر استعمال کی جانے والی 6 ادویات کے 7 بیچز کو جعلی قرار دے دیا، ٹیسٹ میں انکشاف ہوا کہ نمونوں میں ان کے بتائے گئے فعال اجزاء موجود نہیں تھے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ ادویات اینٹی بائیوٹکس، پیٹ درد اور معدے کی شکایات، درد کش اور قبض کش ادویات پر مشتمل ہیں، متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں نے ان بیچز سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی تیار کردہ نہیں ہیں۔

ڈی ٹی ایل کے ڈائریکٹر عدنان رضوی نے بتایا کہ لیبارٹری نے ویلوسیف 500 ملی گرام کیپسول، آگمنٹن 625 ملی گرام گولیاں، نو اسپا فورٹ 80 ملی گرام گولیاں، میوکین سسپنشن، بریکسن گولیوں اور لیکسوبیرون مائع کے مخصوص بیچز کو ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت جعلی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیبارٹری تجزیے سے ثابت ہوا کہ ٹیسٹ کیے گئے نمونوں میں ان کے علاجی اثرات کے لیے ضروری فعال اجزاء موجود نہیں تھے۔

ویلوسیف اور آگمنٹن اینٹی بائیوٹکس ہیں جو عام طور پر بیکٹیریل انفیکشن کے لیے تجویز کی جاتی ہیں۔ نو اسپا فورٹ پیٹ کے درد اور اینٹھن کے لیے، میوکین تیزابیت اور معدے کی دیگر شکایات کے لیے، اور بریکسن درد اور سوزش، خاص طور پر جوڑوں کے امراض میں استعمال ہوتی ہے۔ لیکسوبیرون کے معاملے میں ٹیسٹ سے سوڈیم پیکو سلفیٹ کی عدم موجودگی کی تصدیق ہوئی، جو اس کے جلاب آور اثر کا فعال جزو ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لیکسوبیرون کی تیار کنندہ کمپنی مارٹن ڈاؤ مارکر نے حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ جن بیچ نمبروں والی مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے وہ کمپنی نے تیار نہیں کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیگر پانچ برانڈز سے وابستہ کمپنیوں نے بھی بتایا ہے کہ جن بیچز پر سوال اٹھایا گیا ہے وہ ان کی اصلی مصنوعات نہیں ہیں۔

کمپنیوں کے جوابات اور لیبارٹری کے نتائج نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ معروف فارماسیوٹیکل برانڈز کے نام والی جعلی مصنوعات ادویات کی سپلائی چین میں داخل ہو گئی ہیں۔

سید عدنان رضوی کے مطابق لیبارٹری رپورٹس سیکریٹری سندھ کوالٹی کنٹرول بورڈ اور صوبائی ڈرگ انسپکٹر کراچی ساؤتھ کو ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت قانونی کارروائی کے لیے بھجوائی گئی ہیں۔ لیکسوبیرون کے دو بیچز کی رپورٹس بھی قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کے لیے صوبائی کوالٹی کنٹرول حکام کو بھجوائی گئی ہیں۔

ماہرین صحت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ فعال اجزاء کے بغیر ادویات مریضوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہیں، کیونکہ وہ وہ علاج فراہم نہیں کرتیں جس کے لیے وہ تجویز کی گئی ہیں، خاص طور پر اینٹی بائیوٹکس کے معاملے میں نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

کراچی میں جعلی ادویات بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/Wm2sMzT
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post