اسلام آباد (19 فروری 2026): وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائیوں سے نہیں ہچکچائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں وزیر دفاع نے سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگرد حملے پراکسی جنگ کا نتیجہ ہیں، یہ پراکسی جنگ کابل میں طالبان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نئی فضائی کارروائیوں میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا، جب تک کابل سے امن کی ضمانت نہیں ملتی کسی بھی کارروائی سے نہیں ہچکچائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اگر افغانستان کیساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو فوجی آپشن استعمال کرنا پڑے گا‘
انہوں نے مزید کہا کہ شدت پسند کارروائیوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے، گزشتہ سال کالعدم گروپ کی کارروائیوں کے سبب پاکستان اور افغان طالبان میں جھڑپیں ہوئیں۔
’پاکستان اور افغان طالبان حکومت میں جنگ بندی قطر اور ترکیہ کی کوششوں سے ممکن ہوئی۔ پاکستان پر حملے کے معاملے میں نئی دہلی اور کابل ایک پیج پر ہیں۔‘
خواجہ آصف نے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کا امکان اب بھی موجود ہے۔
11 فروری کو اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر‘ میں وزیر دفاع نے اشارہ دیا تھا کہ میرا خیال ہے پاکستان رمضان سے پہلے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا تھا کہ حتمی وقت نہیں بتا سکتا لیکن یہی کہوں گا جتنا جلدی ہو رسپانس دینا پڑے گا، تھرڈ پارٹیاں مذاکرات کر رہی ہیں ان کو بھی احساس ہوگا تاخیر کے نقصانات پاکستان کو اٹھانا پڑ رہے ہیں، دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں، ہم بات کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرے دن ان کے لوگ پاکستان میں حملہ کر دیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ افغان طالبان عبوری حکومت سے کسی نا کسی طریقے سے رابطہ برقرار رہتا ہے، کوئی تجویز نہیں دے رہا لیکن کوئی واپس آنا چاہیں یا کہیں اور بسانا چاہیں تو پھر حل نکل سکتا ہے، وہ خود کہتے ہیں کہ ہم تحریری گارنٹی نہیں دے سکتے ہیں زبانی کہہ سکتے ہیں، وہ چاہتے ہیں خطے میں امن ہو تو تمام ممالک مل کر افغانستان کی گارنٹی دیں تو مالی امداد کا آپشن بھی طے ہو سکتا ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/I4SoCrm
via IFTTT
Post a Comment