کراچی میں پروفیسر پر تشدد کا واقعہ، مرکزی ملزم کونین شاہ نے ضمانت کروالی

جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر عارف ساقی پر تشدد میں ملوث مرکزی ملزم کونین شاہ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت کروالی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر عارف پر تشدد کیس میں اب تک پانچ افرا کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

پولیس نے کونین شاہ کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے تھے تاہم اب پولیس کا کہنا ہے کہ ضمانت کے بعد مرکزی ملزم کونین شاہ کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پروفیسر عارف اور ان کے بھتیجے پر تشدد کیا تھا۔

سچل تھانے میں پروفیسر عارف خان ساقی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں کونین علی گوہر شاہ سمیت دیگر افراد نامزد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر پر مسلح افراد کا مبینہ تشدد

پروفیسر عارف خان ساقی نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ میں چیئرمین ہوں، گھر سے بھتیجے ڈرائیور وحید کے ساتھ یونیورسٹی جا رہا تھا، صفورہ چوک سندھ گرین ہوٹل کے قریب ایک گاڑی نے میری گاڑی کا بونٹ توڑا۔

مقدمے کے متن کے مطابق گاڑی والے جانے لگے تو میں نے کہا کہ غریب بچے کی گاڑی توڑ دی ازالہ کریں، نام پوچھا تو ملزم مشتعل ہوگئے، انہوں نے مجھے اور بھتیجے کو پستول کے بٹ مارے، دو گن مین سینے اور سر پر بٹ مارتے رہے، زخمی ہو کر گرے تو مزید 4 افراد آگئے۔

عارف خان ساقی نے بتایا تھا کہ ہمیں مارا پیٹا گیا اور ہوٹل لے گئے جہاں حبس بے جا میں رکھا اور وہاں بھی تشدد کیا، ملزمان نے ہوائی فائرنگ کی میرے بھتیجے کی گاڑی بھی ان کے پاس ہے، پولیس نے ہماری جان چھڑائی ملزمان موقع سے بھاگ گئے، مجھے پتا چلا ایک ملزم کا نام کونین گوہر علی شاہ ہے، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/sGSU1KV
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post