کراچی کے نامکمل ترقیاتی منصوبوں کا اصل ذمہ دار کون؟ ہوشربا رپورٹ

کراچی ترقیاتی منصوبوں کا قبرستان بن گیا، کھربوں روپے اخراجات کے باوجود اہلیان کراچی بنیادی سہولیات سے تاحال محروم ہیں۔

ناقص منصوبہ بندی، سیاسی چپقلش اور فنڈز کی خورد برد کے باعث شہر کراچی کا بنیادی ڈھانچہ تباہ حالی کا شکار ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائی راڈار میں میزبان و تجزیہ نگار کامران خان نے اس معاملے پر تفصیلی روشنی ڈالی اور ان میگا منصوبوں سے متعلق افسوسناک حقائق سے ناظرین کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے اور معاشی حب کراچی میں پانی، سیوریج،ٹرانسپورٹ، سیف سٹی اور سڑکوں کے متعدد بڑے منصوبے برسوں گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہوسکے، جبکہ ان پر کھربوں روپے تک خرچ کیے جاچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی جو ملکی ٹیکس ریونیو میں تقریباً 60 فیصد حصہ ڈالتا ہے، آج بھی صاف پانی، بہترین سڑکوں، پبلک ٹرانسپورٹ، صفائی اور سیکیورٹی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر ترقیاتی منصوبوں کے بجائے “نامکمل منصوبوں کے قبرستان” میں تبدیل ہوچکا ہے۔

کے فور منصوبہ 24 سال بعد بھی نامکمل

کامران خان کے مطابق کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن اضافی پانی فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا کے فور منصوبہ 24 برس گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہوسکا۔ منصوبے کی لاگت 25 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 250 ارب روپے تک جا پہنچی جبکہ متعدد ڈیڈ لائنز گزرنے کے باوجود شہری آج بھی ٹینکر مافیا پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

سیوریج ٹریٹمنٹ منصوبہ بھی تاخیر کا شکار

انہوں نے بتایا کہ کراچی گریٹر سیوریج ٹریٹمنٹ منصوبہ جس کا آغاز 2007 میں سمندری آلودگی روکنے کیلئے کیا گیا تھا، تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔ ابتدا میں 8 ارب روپے کے اس منصوبے کی لاگت بڑھ کر 36 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ منصوبے کے تحت روزانہ 460 ملین گیلن آلودہ پانی ٹریٹ کیا جانا تھا۔

کراچی سرکلر ریلوے صرف وعدوں تک محدود

اس کے علاوہ کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) منصوبہ گزشتہ 26 برس سے اعلانات اور وعدوں کی نذر ہے۔ 2020 میں محدود پیمانے پر ٹرین چلانے کے بعد منصوبہ دوبارہ غیر فعال ہوگیا۔ 2022 میں 294 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا، تاہم اب تک کوئی نمایاں پیشرفت سامنے نہیں آسکی۔

سیف سٹی منصوبہ بھی ناکام

رپورٹ کے مطابق کراچی میں سیف سٹی منصوبہ 2009 میں شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت شہر میں ہزاروں کیمرے نصب کیے جانے تھے، تاہم 2026 تک صرف تقریباً 1300 کیمرے نصب ہوسکے ہیں جو شہر کے صرف 8 فیصد حصے کی نگرانی کرتے ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق کراچی کو کم از کم 60 ہزار کیمروں کی ضرورت ہے۔

ریڈ لائن اور یلو لائن منصوبوں پر بھی سوالیہ نشان

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی روڈ پر جاری ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ شہریوں کیلئے اذیت بن چکا ہے، چار سال سے جاری تعمیراتی کام کے باعث شدید ٹریفک جام، گردوغبار اور ٹوٹی سڑکوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ منصوبے کی لاگت 124 ارب سے بڑھ کر 170 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ تکمیل کی نئی تاریخ 2028بتائی جارہی ہے۔

اسی طرح یلو لائن بی آر ٹی منصوبہ بھی سست روی اور مبینہ کرپشن کا شکار قرار دیا جارہا ہے۔ 439 ملین ڈالر مالیت کے اس منصوبے پر اب تک صرف 20 فیصد کام مکمل ہوسکا ہے۔

کراچی کے شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم ہوسکیں تاکہ انہیں روزمرہ کی مشکلات و مصائب سے نجات ملے۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/fxBONYS
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post