سیلینا جیٹلی کا شوہر کے ہتک عزت کے نوٹس پر کرارا جواب

بھارت کی معروف اداکارہ سیلینا جیٹلی نے شوہر پیٹرہاگ اور سسر وولف گینگ ہاگ کی جانب سے ہتک عزت نوٹس پر کرارا جواب دے دیا۔

فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اداکارہ سلینا جیٹلی نے پوسٹ شیئر جس میں شوہر پیٹرہاگ اور سسر وولف گینگ ہاگ کی جانب سے قانونی نوٹسز کا جواب دیا ہے۔

 سیلینا نے کہا کہ کئی برسوں تک ان کے خاندان سے متعلق تشہیر کی جاتی رہی، جس میں میگزین کے سرورق، انٹرویوز اور خاندان پر مبنی متعدد مضامین شامل تھے لیکن جب انہوں نے اپنی ذاتی مشکلات، قانونی جدوجہد اور ایک ماں کے طور پر اپنے خدشات کے بارے میں بات کرنا شروع کی تو جواب دینے کے بجائے انہیں قانونی نوٹسز بھیج دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بچے صرف ان کے شوہر کے نہیں بلکہ ان کے بھی ہیں، وہ ان کی ماں ہیں اور اپنے بچوں کے لیے یہ لڑائی جاری رکھیں گی۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ جوائنٹ کسٹڈی اور باہمی رضامندی سے طلاق کی حامی رہی ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے متعدد بار معاملے کا پرامن حل نکالنے کی کوشش کی، لیکن عدالتی احکامات کے باوجود وہ اپنے بچوں سے بات نہیں کر پا رہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلسل انہیں اپنے بچوں سے دور رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یہ پڑھیں: سیلینا جیٹلی بیٹے کی قبر پر جذباتی ہوگئیں، طلاق کے کیس کی مشکلات بھی بتادیں

سیلینا جیٹلی نے اپنے بچوں کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ بچوں کو ان کی معلومات اور رضامندی کے بغیر آسٹریا اور بھارت کی عدالتوں کے دائرہ اختیار سے باہر لے جایا جا سکتا ہے۔

ان کے بقول ایک ماں کی حیثیت سے یہ ان کا حق اور ذمہ داری دونوں ہے کہ وہ ایسے خدشات کو عوامی سطح پر سامنے لائیں اور اپنے بچوں کے مفادات کا تحفظ کریں۔

سیلینا جیٹلی کا کہنا ہے کہ قانونی نوٹسز کے ذریعے انہیں بدنام کرنے، خوف زدہ کرنے اور خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے باوجود وہ اپنی قانونی اور اخلاقی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

واضح رہے کہ پیٹر ہاگ اور ان کے والد کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹسز میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں عوامی سطح پر لگائے جانے والے الزامات ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس کے منفی اثرات بچوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/t4G9FX5
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post