پمز سانحے کی تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ سامنے نہ آ سکی

اسلام آباد (29 اگست 2026): تین روز گزرنے کے بعد بھی پمز نرسری کے سانحے کی تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے عملے اور افسران کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے تھے، اور پارلیمنٹ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گزشتہ رات تک ابتدائی رپورٹ پیش کیے جانے کا عندیہ دیا تھا۔

وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی جلد ابتدائی رپورٹ آنے کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، تاہم یہ رپورٹ تا حال پیش نہیں کی جا سکی ہے۔


وزیر اعلیٰ پنجاب میری معصوم بیٹی کی بازیابی کے لیے مدد کریں، نور فاطمہ کے والد کی دہائی


گزشتہ روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ’’میں سانحہ پمز کی ذمہ داری لیتا ہوں، مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کو نہیں چھوڑا جائے گا، سانحہ پمز پر تحقیقاتی رپورٹ آج وزیر اعظم کو پیش کی جائے گی۔‘‘

انھوں نے کہا ’’کسی کو بچایا جائے گا نہ رپورٹ چھپائی جائے گی، کوئی کتنا ہی بڑا طرم خان ہو نہیں بچے گا، وزارت میرے سامنے کچھ نہیں بیچتی۔‘‘

مصطفیٰ کمال نے کہا ’’پاکستان میں گلا سڑا نظام ہے، کسی بُرے کو ہٹا کر اچھا کہاں سے لاؤں؟ ہر کوئی کہتا ہے اس کا چور ہٹا کر میرا چور لگا دو، جو استعفیٰ مانگ رہے ہیں میں نے وہ کام ان کی سوچ سے بھی پہلے کر دیا تھا۔‘‘

دریں اثنا قومی اسمبلی نے سانحہ پمز سے متعلق متفقہ قرارداد منظور کر لی ہے۔ بیرسٹر دانیال چوہدری کی قرار داد میں سانحے پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور ذمہ داروں کا تعین کر کے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/1uvYGkx
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post