کراچی : چڑیا گھر سے 6 سالہ مغوی بچہ کئی ماہ بعد ڈرامائی انداز میں بازیاب تو ہوگیا لیکن وہ کئی دن تک لوگوں سے بھیک مانگتا رہا۔
پاکستان میں سالانہ ہزاروں بچے اغوا یا لاپتہ ہوجاتے ہیں، اس کے باوجود صرف چند کیسز ہی ایسے ہوتے ہیں جن کی خبروں کو میڈیا میں جگہ ملتی ہے۔
یہ بچے کیسے اور کہاں لے جائے جاتے ہیں؟ اسمگلنگ کے نیٹ ورک اور بھکاری مافیا کیسے کام کرتی ہیں اور والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟
اس حوالے سے نکتہ اسپاٹ لائٹ کے پروگرام میں روشن ہیلپ لائن کے بانی محمد علی نے میزبان تانیا عباسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے لاپتہ بچوں کی زندگی ان کی اسمگلنگ، آن لائن گرومنگ سے متعلق تفصیل سے بتایا۔
سماجی کارکن محمد علی نے ایک دل دہلا دینے والے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 2005-06 کے دوران کراچی کے چڑیا گھر (گاندھی گارڈن) سے لاپتا ہونے والا 6 سالہ بچہ حمزہ اقبال 204 روز کی تلاش کے بعد بھکاری مافیا کے قبضے سے بازیاب کرایا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کے لاپتا ہونے کی اطلاع انہیں واقعے کے تقریباً 6 گھنٹے بعد ملی، جس کے بعد ان کی ٹیم فوری طور پر چڑیا گھر پہنچی اور تلاش کا آغاز کیا، اس دوران بچے کی والدہ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوگئیں جبکہ والد بھی شدید پریشانی میں مبتلا رہے۔
سماجی کارکن کے مطابق بچے کی تلاش کے لیے اخبارات میں اشتہارات شائع کیے گئے، چند روز بعد ایک نامعلوم شخص نے اطلاع دی کہ منگھوپیر کے علاقے پختون آباد میں ایک بچہ بھیک مانگتے دیکھا گیا ہے، جو لاپتا بچے سے مشابہت رکھتا ہے۔
اطلاع ملنے پر پولیس اور رضاکاروں نے مشترکہ کارروائی کا فیصلہ کیا، گارڈن تھانے کی نگرانی میں رات گئے مختلف گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ تقریباً 15ویں گھر سے حمزہ اقبال کو تین دیگر بچوں سمیت بازیاب کرا لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو چارپائی سے رسیوں کے ذریعے باندھا گیا تھا، بچے کی والدہ نے جیسے ہی اپنے بیٹے کو دیکھا وہ بے ہوش ہوگئیں، جبکہ علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ اس بچے کی واپسی کے منتظر تھے۔
کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے میاں بیوی نے برملا اعتراف کیا کہ وہ بچوں کو اغوا کرکے بھکاری مافیا کے حوالے کرتے تھے۔ ملزمان کے مطابق بچوں کو بھیک مانگنے کی تربیت دی جاتی اور بعد ازاں انہیں مختلف گروہوں کو فروخت کر دیا جاتا تھا۔
ملزمہ نے دوران تفتیش یہ بھی انکشاف کیا کہ حمزہ اپنی والدہ کے پاس جانے کے لیے مسلسل روتا تھا، جس پر اسے خاموش کرانے کے لیے سگریٹ سے داغا جاتا تھا اور اسے فرار سے روکنے کے لیے باندھ کر بھی رکھا جاتا تھا۔
سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ بچے کی بازیابی کے بعد بھی اس پر بھیک مانگنے کی عادت کے اثرات نمایاں تھے اور وہ گھر آنے والے ہر شخص سے پیسے مانگتا تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچوں کو کس طرح ذہنی اور جسمانی طور پر متاثر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ عوامی مقامات پر بچوں پر مسلسل نظر رکھیں کیونکہ معمولی غفلت بھی انسانی اسمگلروں اور بھکاری مافیا کو موقع فراہم کرسکتی ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/Wxfakou
via IFTTT
Post a Comment