’ہمارا اور پیپلزپارٹی کا اتحاد مجبوری کا ہے دونوں اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں‘

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے اتحاد میں ہمارے پاس زیادہ آپشنز نہیں بلکہ محدود آپشنز ہی ہیں ہمارا اور پیپلزپارٹی کا اتحاد مجبوری کا اتحاد ہے ہم دونوں اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کسی کی قربانیوں کو کیٹگرائز کروں تو یہ درست نہیں جس نے اپنا گھر چھوڑا قربانیاں دیں اس کی اہمیت مجھ سے زیادہ ہے بھارت سے ہجرت کرکے آنیوالے اپنے خاندان قربان کرکےپنجاب میں آباد ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ نئے الیکشن کے بعد نئی اسمبلی میں معاملات کو زیربحث لاکر تصیح کرلی جائے جمہوری طریقہ یہی ہے کہ الیکشن کےبعدآزادکشمیرمیں مہاجرسیٹوں کا معاملہ حل کرلیں، مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ حل ہو سکتا ہے نئی اسمبلی سے حل کرالیں، ان ڈائریکٹ الیکشن جہاں بھی ہوئے ہیں وہاں دباؤ اور نوٹ زیادہ استعمال ہوا ہے، ون مین ون ووٹ روایت کو لے کر چلیں اور اسے بہتر کر کے لوگوں کے خدشات دور کریں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم نے کشمیرکاز کی آنر شپ لی ہے اس کی توہین نہ کی جائے میں پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ کا احترام کرتا ہوں لیکن آزادکشمیر میں ان کی حکومت ہے، میرا سوال ہے آزادکشمیر میں پی پی حکومت کیا کررہی ہے وہاں آج ایسے حالات کیوں ہیں صرف حکومت کرنی ہوتی ہے کیا ایسی صورتحال میں کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ ذمہ داری پیپلزپارٹی کی بنتی ہے میراخیال ہے پیپلزپارٹی آزاد کشمیر میں ناکام ہوچکی ہے، مولانا فضل الرحمان کو آزاد کشمیر بلانے کا مطلب پی پی کا اپنی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے، پیپلزپارٹی خود آزاد کشمیر انتخابات ملتوی کرانا چاہتی تھی۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/soh3Btk
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post