خواتین کے جرائم پر مبنی ویب سیریز زیادہ مقبول کیوں؟

حیدرآباد : او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر مواد کے رجحانات تیزی سے بدل رہے ہیں اور اب مرد مرکزی کرداروں کے مقابلے میں خواتین پر مبنی جرائم اور تھرلر ویب سیریز زیادہ توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین کی قیادت والی ویب سیریز ناظرین میں نہ صرف زیادہ مقبول ہو رہی ہیں بلکہ ان پر ہونے والی گفتگو اور ’بز‘ بھی نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہندی او ٹی ٹی انڈسٹری میں طویل عرصے تک مرد مرکزی کرداروں کا غلبہ رہا ہے، جہاں جرائم، ایکشن، سیاسی ڈراموں اور تھرلر کہانیوں میں مرد کردار سب سے زیادہ نمایاں تھے۔ تاہم اب ناظرین کی دلچسپیوں میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

آرمیکس میڈیا کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 سے مئی 2026 کے درمیان ریلیز ہونے والی 50سب سے زیادہ دیکھی جانے والی غیر فرنچائز ہندی فکشن ویب سیریز کے تجزیے سے یہ رجحان سامنے آیا ہے۔

ان میں سے 28 سیریز مرد مرکزی کرداروں پر مبنی تھیں، 10 خواتین کی قیادت میں جبکہ 12 میں دونوں صنفوں کے کردار شامل تھے، اگرچہ خواتین کی سیریز تعداد میں کم تھیں، لیکن ان کی مقبولیت اور اثر نمایاں طور پر زیادہ رہا۔

رپورٹ کے مطابق مرد مرکزی کردار والی سیریز کا اوسط “پیک بز اسکور” 9.6 رہا، جبکہ خواتین کی قیادت والی سیریز نے 14.1 کا اوسط اسکور حاصل کیا، جو تقریباً 47 فیصد زیادہ ہے۔ ’پیک بز‘ ایک ایسا پیمانہ ہے جو یہ جانچتا ہے کہ آیا ناظرین کسی شو کو بغیر کسی اشارے کے یاد رکھ سکتے ہیں یا اس کا نام لے سکتے ہیں—زیادہ اسکور زیادہ مقبولیت اور گفتگو کو ظاہر کرتا ہے۔

خواتین کے مرکزی کردار میں مقبول ہونے والے چند نمایاں شوز میں مسز دیش پانڈے، ڈبہ کارٹیل، منڈالا مرڈرز، خوف، دلدل، چریا اور سرچ، دی نینا مرڈر کیس شامل ہیں۔

رپورٹ میں اس رجحان کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ ایک اہم وجہ یہ ہے کہ چونکہ زیادہ تر او ٹی ٹی مواد میں مرد کرداروں کا غلبہ رہا ہے، اس لیے خواتین مرکزی کردار والی کہانیاں ناظرین کے لیے تازہ اور منفرد محسوس ہوتی ہیں۔

مزید یہ کہ خواتین پر مبنی کہانیاں صرف تفریح تک محدود نہیں رہتیں بلکہ شناخت، آزادی، تحفظ، تعلقات اور سماجی دباؤ جیسے گہرے موضوعات کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ سیریز ناظرین کے درمیان زیادہ گفتگو اور بحث کا باعث بنتی ہیں۔

مثال کے طور پر کچھ شوز میں خوف اور کمزوری کو خواتین کے نقطۂ نظر سے پیش کیا گیا، جبکہ دیگر میں گھریلو تشدد، رضامندی، ازدواجی مسائل اور ذاتی وقار جیسے حساس موضوعات کو نمایاں کیا گیا، جس نے ناظرین کو کہانی سے زیادہ گہرے طور پر جوڑ دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ او ٹی ٹی دیکھنے کا انداز بھی بدل چکا ہے، پہلے لوگ زیادہ تر موبائل یا لیپ ٹاپ پر اکیلے مواد دیکھتے تھے لیکن اب اسمارٹ ٹی وی اور مشترکہ اسکرین دیکھنے کے رجحان نے ناظرین کو ایک ساتھ بیٹھ کر ویب سیریز دیکھنے اور ان پر گفتگو کرنے کا موقع دیا ہے۔

اس تبدیلی کے باعث ایسی سیریز جو مختلف عمر اور طبقے کے ناظرین کو اپیل کرتی ہیں، زیادہ مقبول ہو رہی ہیں، جتنے زیادہ لوگ کسی شو کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں، اتنا ہی زیادہ امکان ہوتا ہے کہ وہ اسے دوسروں کو بھی تجویز کریں اور اس پر بات کریں۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/qfK1dT2
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post