اسلام آباد : شاہراہِ دستور پر موجود ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو بلڈنگ خالی کرانے کیلئے اقدامات کا آغاز کردیا گیا تھا، بعد ازاں وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دے کر کارروائی رکوا دی۔
رات گئے پولیس کے ذریعے مذکورہ عمارت کو خالی کرانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، ایک رہائشی کے مطابق چند پولیس اہلکاروں نے عمارت کو شام تک خالی کرنے کی ہدایات دی ہیں۔
یاد رہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے لیز منسوخی کے خلاف نجی کمپنی اور فلیٹس مالکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں جنہیں عدالت نے خارج کر دیا تھا۔
سی ڈی اے نے سال 2005 میں 13 ایکڑ اراضی لگژری ہوٹل کیلئے 99 سالہ لیز پر کمپنی کو دی تھی۔ ذرائع کے مطابق کمپنی نے ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس بنا کر فروخت کردیے۔ کیس کا تاحال تحریری فیصلہ جاری نہیں ہوا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے قانونی و انتظامی امور کیلئے کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا وزیراعظم نے قانونی ،انتظامی امور کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کمیٹی کے کنوینر، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری رکن اور کابینہ ڈویژن اور کامرس ڈویژن کے سیکرٹری بھی کمیٹی کے رکن مقرر کیے گئے ہیں۔
![]()
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے ٹی او آرز طے کرلیے گئے ہیں، کابینہ ڈویژن سیکریٹریٹ معاونت فراہم کرے گی، ٹی اوآرز کے مطابق مذکورہ کمیٹی عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے متعلق قانونی، انتظامی امور کا جائزہ لے گی۔
کمیٹی رہائشیوں کے بیانات قلمبند کرنے کے ساتھ شکایات درج کرنے والوں کا مؤقف سنے گی اور ع دالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مناسب راستہ تجویز کرےگی ۔
اس کے علاوہ کمیٹی رہائشیوں کے تحفظات کو منصفانہ اور متوازن انداز میں حل کرے گی اور ضرورت کے مطابق کسی اور رکن کو بھی شامل کر سکے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی فوری طور پر کام شروع کرکے 8 مئی 2026 کو اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، وزیراعظم کے حتمی فیصلے تک سی ڈی اے، آئی سی ٹی انتظامیہ یا اسلام آباد پولیس جابرانہ کارروائی نہیں کریں گے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/K8RG6Hv
via IFTTT
Post a Comment