مشہور محاورہ ہے کہ پُوت کے پاؤں پالنے میں نظر آجاتے ہیں یعنی کسی بھی بچے کی ذہنی صلاحیتیں، عادات یا مستقبل کا اندازہ والدین کو اس کی ابتدائی عمر ہی میں کسی حد تک ہوجاتا ہے۔
ایک ذہین بچہ اپنے بچپن ہی سے اپنی ذہانت کا مظاہرہ کرنا شروع کردیتا ہے، البتہ بیشتر والدین لاعلمی یا عدم توجہی کے باعث بچے کی ذہانت کی علامات کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
زیر نظر مضمون میں اسی موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے اور اس بات کا جواب جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ والدین بچے کی کس عادت سے اس کی ذہنیت اور رجحانات کے بارے میں بہتر جان سکتے ہیں۔
اکثر والدین اپنے بچوں کو ذہین سمجھتے ہیں، مگر کچھ واضح نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو واقعی غیر معمولی ذہانت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
وہ کون سی بات یا کون سا طریقہ ہے جو والدین اور بچوں کو ذہنی طور پر قریب کرتا ہے؟ یاد رہے کہ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جو پہلی مرتبہ میں ہی بات کو سمجھ جاتے ہیں اگر ایسا ہے تو سمجھ جائیے کہ اس کے اندر کوئی بہت بڑا دانشور یا سورما چھپا بیٹھا ہے۔
ذہین بچے عموماً نئی چیزیں تیزی سے سیکھتے ہیں اور اپنے ہم عمر بچوں کے مقابلے میں زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ ان کی یادداشت بھی بہتر ہوتی ہے جبکہ مطالعے میں گہری دلچسپی ایک اہم علامت اور اضافی قابلیت سمجھی جاتی ہے۔
ایسے بچے والدین سے اکثر سوچنے پر مجبور کرنے والے سوالات کرتے ہیں، جس سے ان کے تجسس اور گہری سوچ کا اندازہ ہوتا ہے، قیادت کی صلاحیت، دوسروں سے بہتر انداز میں بات چیت اور مسائل کو حل کرنے کے لیے منطق کا استعمال بھی ان کی ذہانت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کے علاوہ ذہین بچے اپنی دلچسپی کے کاموں میں بھرپور توجہ دیتے ہیں اور سیکھنے کے عمل سے لطف اندوز ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں اکثر اچھے تعلیمی نتائج بھی حاصل کرتے ہیں۔
مزید یہ کہ ایسے بچے اپنے ہم عمر بچوں کے بجائے بڑوں سے گفتگو میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ ان کی سوچ دیگر عام بچوں کی نسبت زیادہ پختہ ہوتی ہے۔
مختصر یہ کہ جلدی سیکھنا، تجسس، منطقی سوچ اور مطالعے کا شوق وہ بنیادی نشانیاں ہیں جو کسی بھی بچے کی ذہانت کو ظاہر کرتی ہیں۔
یہ بات یاد رکھیں کہ ذہانت پر کسی مخصوص طبقے کی اجارہ داری نہیں ہے، یہ قدرت کا خاص تحفہ ہوتی ہے یہ اللہ کی نعمت ہے اور وہ کسی کو بھی اس سے نواز سکتا ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/ymx4edJ
via IFTTT
Post a Comment