علاؤالدین خلجی ہندوستان کا ایسا محافظ تھا کہ منگولوں جیسے وحشی درندے بھی اس سے خوف کھاتے تھے، وہ اس طوفان کے آگے آہنی دیوار بن کے کھڑا رہا۔
سلطان علاؤالدین خلجی کا سنہ پیدائش 1266ء اور مقام دہلی تھا۔ وہ اس وقت کے بادشاہ جلال الدّین کے بڑے بھائی شہاب الدین مسعود کے گھر پیدا ہوا۔ اس کا اصل نام علی گرشپ تھا اور اس کی پرورش چچا نے کی جو اس وقت خلجی خاندان کے حکمراں تھے۔
علاؤالدین خلجی کو کم عمری ہی میں تیر اندازی، نیزہ بازی، شکار اور گھڑ سواری کا شوق تھا۔ اس نے سپاہ گری میں مہارت حاصل کی اور بادشاہ کی نظر میں اہمیت اختیار کرتا گیا۔
نوجوان علاؤالدین خلجی کو کڑہ کی بغاوت کچلنے کے لیے بھیجا گیا جس میں کامیابی کے بعد اسے وہاں کا گورنر بنا دیا گیا۔ بعد میں بادشاہ نے اپنی ایک بیٹی کی شادی بھی اپنے اس بھتیجے سے کردی۔
یہ سچ ہے کہ اس وقت منگولوں سے زیادہ وحشی کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے پورے ایشیا کو تباہ کر دیا تھا۔ لیکن جب وہ ہندوستان آئے تو انہیں علاؤالدین خلجی اور اس کے بہادر کمانڈر ظفر کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ وہ کمانڈر تھے جو ساری زندگی منگولوں سے لڑتے رہے، اگر وہ منگولوں کو نہ بھگاتے تو اس جگہ کی تاریخ اور جغرافیہ مختلف ہوتا۔
یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ اگر علاؤالدین خلجی منگولوں کو ہندوستان کی جانب بڑھنے سے نہ روک پاتے تو برصغیر کا کیا انجام ہوتا؟ تیرہویں اور چودھویں صدی میں منگول دنیا کی سب سے خوفناک عسکری قوت سمجھے جاتے تھے۔
چنگیز خان اور اس کے جانشینوں نے روس، چین، ایران، بغداد اور شام تک تباہی مچائی۔ لاکھوں افراد قتل ہوئے اور کئی سلطنتیں مٹ گئیں۔ ہندوستان بھی دولت اور خوشحالی کے باعث ان کی نگاہ میں تھا۔
علاؤالدین خلجی کے دورِ حکومت میں منگولوں نے متعدد بار حملے کیے، مگر ہر بار انہیں پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1297-98ء میں جالندھر کے قریب شدید جنگ ہوئی جس میں ہزاروں منگول مارے گئے۔ 1299ء میں سیہون پر قبضہ کیا گیا مگر جرنیل ظفر خان نے اسے واپس لے لیا۔
اسی سال ایک اور بڑا حملہ ہوا جس کا فیصلہ کن معرکہ دہلی کے قریب کِلی کے میدان میں پیش آیا، ظفر خان کی شجاعت سے منگول پسپا ہوئے اگرچہ وہ خود شہید ہوگئے۔
1303 عیسوی میں ترغی کی قیادت میں منگول دہلی تک جا پہنچے اور سری قلعے کا محاصرہ کیا، لیکن شہر فتح نہ کرسکے۔ اس واقعے کے بعد خلجی نے سرحدی دفاع مضبوط کیا، نئے قلعے تعمیر کروائے، فوج میں اضافہ کیا اور شمال مغرب میں مستقل فوجی انتظام قائم کیا۔ 1306ء میں ایک اور بڑے حملے کو بھی ناکام بنا دیا گیا اور ہزاروں منگول قیدی بنائے گئے۔
منگولوں کے پے در پے حملوں کو روکنا آسان نہ تھا، مگر خلجی کی جنگی حکمت عملی، جرأت اور انتظامی صلاحیت نے دہلی سلطنت کو محفوظ رکھا۔ بعض مؤرخین کے مطابق اگر وہ ناکام ہوجاتے تو ہندوستان بھی وسط ایشیا اور ایران کی طرح وسیع تباہی کا شکار ہوسکتا تھا۔
یوں علاؤالدین خلجی کو ایک ایسے حکمران کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے شدید خطرات کے باوجود سلطنت کو بچایا اور منگول یلغار کے آگے مضبوط دیوار بن کر کھڑا رہا۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/zW4Ol0v
via IFTTT
Post a Comment