کراچی : شہر قائد میں بڑی تعداد میں یہودیوں کی آمد 19ویں صدی کے آغاز پر برطانوی راج میں شروع ہوئی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تعداد آہستہ آہستہ کم ہوتی جارہی ہے۔
پرانے کراچی میں یہودیوں کے کئی محلے آباد تھے اور ان علاقوں میں متعدد عمارات پر نشان داؤدی آج بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ میوہ شاہ قبرستان میں موجود 5 ہزار کے قریب ان کی قبریں موجود ہیں۔
یہ کمیونٹی شہر کراچی کے قدیم باسیوں کا حصہ تھی لیکن اب تقریباً مکمل طور پر نقل مکانی کرچکی ہے کراچی میں اب یہودیوں کی کوئی منظم یا نمایاں آبادی موجود نہیں ہے، لیکن آج بھی یہودی افراد کی قلیل تعداد ایک خاندان کی شکل میں موجود ہے جو اپنی شناخت ظاہر کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔
ایک رپورٹ میں نادرا ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان میں یہودیوں کی مجموعی تعداد 780ہے جبکہ کراچی میں 119 یہودی رہائش پذیر ہیں۔
کراچی کے علاقے رام سوامی میں یہودیوں کا ایک سناگوگ تھا، جسے 1988 کے قریب گرا کر وہاں مدیحہ اسکوائر بنا دیا گیا۔
1947میں قیامِ پاکستان کے وقت یہاں یہودی برادری موجود تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، خاص طور پر 1968 تک، ان کی تعداد کم ہو کر صرف 250 کے قریب رہ گئی تھی। اب پاکستان میں یہودی نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان کی آبادیاں ختم ہو چکی ہیں۔
واضح رہے کہ انیسویں صدی کے آغاز پر برطانوی راج میں کراچی میں ہزاروں یہودی آباد تھے، قیام اسرائیل اور عرب اسرائیل جنگوں کے بعد یہودی برادری نے بڑی تعداد میں یہاں سے ہجرت کرلی۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/Pxq8alI
via IFTTT
Post a Comment