کویت وزٹ ویزا کے نئے قوانین : مسافروں کے لیے خوشخبری

کویت سٹی (18 فروری 2026) : کویتی حکام نے وزٹ ویزا قوانین میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے ویزے کی مدت میں اضافہ کیا تھا۔

تاہم اب بھی بہت سے لوگ پرانے قواعد کو درست سمجھتے ہوئے الجھن اور تذبذب کا شکار ہیں، قیام کی مدت، خروج کی شرط، دوبارہ داخلے اور توسیع کے حوالے سے واضح معلومات نہ ہونے کے باعث اکثر غیر ملکی افراد پریشان رہتے ہیں۔

مندرجہ ذیل سطور میں حالیہ سرکاری معلومات کی روشنی میں اہم نکات پیش کیے جا رہے ہیں، اس حوالے سے نئے امیگریشن فریم ورک کے تحت کویت نے وزٹ ویزا کے اختیارات میں توسیع کی ہے۔ درخواست کے جدید آن لائن نظام متعارف کرائے گئے ہیں۔

Kuwait

بعض پرانی پابندیاں جیسے کہ مخصوص ایئر لائن کے ذریعے ملک میں داخلے کی شرط ختم کردی گئی ہے، عام طور پر یہ غلط فہمی ہے کہ ہر تین ماہ بعد تین ماہ کے لیے ملک سے باہر رہنا لازمی ہے، موجودہ قوانین کے تحت ایسی کوئی سرکاری شرط موجود نہیں کہ وزیٹر کو ہر تین ماہ بعد ملک چھوڑ کر مزید تین ماہ باہر رہنا پڑے گا۔

رپورٹ کے مطابق اگر ویزا کی مدت ختم ہو جائے تو وزیٹر صرف ملک سے روانہ ہونے کے بعد دوبارہ نیا ویزا حاصل کرکے واپس آسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایسی کوئی باضابطہ پابندی نہیں ہے کہ تین بار ملک چھوڑنے کے بعد دوبارہ وزٹ ویزا جاری نہ کیا جائے۔ تاہم ہر نئی درخواست کو علیحدہ سے جانچا جاتا ہے۔

کویت وزٹ ویزا کیلیے مسافر کے پاسپورٹ کا درست اور کارآمد ہونا ضروری ہے، اس پر کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی کا الزام یا پابندی نہیں ہونی چاہیے۔

نئے قوانین کے مطابق بعض صورتوں میں وزٹ ویزا کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے، مثلاً 3 ماہ سے 6ماہ یا 12 ماہ تک لیکن یہ وزارت کی منظوری اور فیس سے مشروط ہوتی ہے۔

اگر کوئی غیر ملکی کویت میں مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرلے اور اس کی باقاعدہ توسیع نہ لی جائے تو اس پر جرمانہ عائد ہوسکتا ہے اس کے علاوہ ملک بدری (ڈی پورٹیشن) یامستقبل میں داخلے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

نوٹ : تازہ ترین اور مستند معلومات کے لیے کویت کی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ kuwaitvisa.moi.gov.kw یا سرکاری پورٹل e.gov.kw سے رجوع کرنا بہتر ہے، کیونکہ قوانین ویزا کی قسم (سیاحتی، فیملی وزٹ وغیرہ) اور شہریت کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔

سعودی عرب: وزٹ ویزا سے متعلق اہم خبر!



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/4wq0YGJ
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post