اسلام آباد میں پولن الرجی پھیلنے کی اصل وجہ سامنے آگئی

دارالحکومت اسلام آباد میں پولن الرجی پھیلنے کے اسباب سامنے آگئے، وجوہات سامنے آنے کے بعد 29 ہزار سے زائد جنگلی شہتوت کے درخت کاٹ دیے گئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اسلام آباد میں جنگلی شہتوت کے بہت سارے درخت موجود تھے، ان درختوں کی وجہ سے فضا میں پولن اڑتا تھا اور شہریوں کی سانس میں جاتا تھا، جس سے الرجی، چھینک اور نزلہ زکام کی شکایت کافی عام ہوگئی تھی تاہم شہری انتظامیہ نے ان درختوں کو کاٹ دیا گیا۔

اسلام آباد میں پولن الرجی کے خاتمے کےلیے جامع حکمت عملی اپنائی گئی، سی ڈی اے نے بتایا کہ جن درختوں کو اسلام آباد میں کاٹا جارہا ہے وہ مضر صحت درخت ہیں اور ان کی وجہ سے شہریوں میں الرجی پھیل رہی ہے۔

اسسٹنٹ پروفیسر جنرل فزیشن ڈاکٹر عرفان صدیقی نے اے آر وائی کے پروگرام میں بتایا کہ پولن الرجی بعض درختوں میں موجود کیڑوں کی وجہ سے پھیلتی ہے، اگر لوگ صفائی ستھرائی کا خیال نہ رکھیں اور احتیاتی تدابیر اختیار نہ کریں تو وہ اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر عرفان نے کہا کہ سب سے پہلی چیز آپ ماسک کا استعمال کریں، اس سے ایک رکاوٹ آجاتی ہے اور پولن براہ راست پھیپھڑوں کے اندر نہیں جاتے، ایکسرسائز سے، اسٹیم سے قہوہ سے پھیھپڑوں کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مخصوص سیزن میں الرجی کی کوئی مخصوص ویکسینیشن ہوتی ہے تو وہ کروائی جائے تاکہ جسم میں قوت مدافعت بڑھ جائے اورجسم بہتر طریقے سے بیماریوں کے خلاف دفاع کرسکے۔

جنرل فزیشن ڈاکٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ ابھی چوں کہ بیماریاں بڑھ گئی ہیں تو ہم یہ تجویز کرتے ہیں کہ بہتر ہے این 95 ماسک کا استعمال کیا جائے تاکہ اچھے طریقے سے اسکی روک تھام کرسکیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ کراچی میں دھول، مٹی اور فضائی آلودگی کی وجہ سے الرجی عام ہوچکی ہے، دھول مٹی کے علاوہ پولن، دھواں، کھانے کی اشیا الرجی کی اہم وجوہات میں شمار ہوتی ہیں، اس صورتحال میں کسی کو ڈسٹ الرجی تو کوئی نزلہ، زکام اور بخار کا شکار ہوتا ہے

الرجی کیا ہے؟
آپ کے جسم کا مدافعتی نظام (امیونٹی سسٹم) جو ردعمل ظاہر کرتا ہے اسے الرجی کہتے ہیں، کسی بھی چیز سے ہونے والی الرجی میں سانس کی نالی میں خارش، ناک بہنا یا اس طرح کی دیگر چیزیں جو آپ کے نظام تنفس (respiratory system) سے متعلق ہوتی ہیں، جس سے یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/hHG2gIf
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post