’پاکستانی خواتین میں امراضِ قلب سے اموات کی شرح خطے میں سب سے زیادہ‘

کراچی: ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں خواتین میں دل کی شریانوں کے مرض سے اموات کی شرح جنوبی ایشیا کے پانچ زیرِ مطالعہ ممالک میں سب سے زیادہ ہے جبکہ بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا اور جسمانی سرگرمی کی کمی ان کے لیے خطرہ بڑھا رہی ہے۔

عالمی یومِ قلب 2026 کے موقع پر فارم ایوو نے کراچی میں منعقدہ پریس کانفرنس کے ذریعے ’’اس کا دل بھی اہم ہے کے عنوان سے خواتین کی قلبی صحت کے لیے ایک ملک گیر مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ یہ مہم پاکستان کارڈیک سوسائٹی، سوسائٹی آف آبسٹیٹریشنز اینڈ گائناکالوجسٹس آف پاکستان اور پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے اشتراک، جبکہ گو ریڈ فار وومن کے تعاون سے شروع کی گئی ہے۔

اس مہم کا بنیادی مقصد خواتین میں دل کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے عوامی آگاہی کو فروغ دینا اور خواتین کی قلبی صحت کو صحتِ عامہ کے اہم ترجیحی موضوع کے طور پر اجاگر کرنا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا اور دیگر قلبی خطرات خواتین کی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لیے ان خطرات کی بروقت شناخت اور مؤثر انتظام انتہائی اہم ہے۔

’’اس کا دل بھی اہم ہے‘‘ ایک ملک گیر اقدام ہے، جس کے تحت پاکستان بھر میں خواتین کے لیے طبی اسکریننگ، آگاہی اور تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس مہم میں نہ صرف عام افراد اور مریضوں کو دل کی صحت کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا بلکہ ڈاکٹرز اور دیگر طبی ماہرین کے لیے بھی تعلیمی اور آگاہی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا، تاکہ خواتین میں قلبی بیماریوں کے خطرات کی بروقت شناخت، ابتدائی مداخلت اور مناسب علاج کو فروغ دیا جا سکے۔

آج کی پریس کانفرنس اس وسیع تر قومی مہم کا باقاعدہ نقطۂ آغاز ہے، جس کے بعد ملک بھر میں کمیونٹی اسکریننگ کیمپس، عوامی آگاہی پروگرامز، طبی ماہرین کے لیے تعلیمی سرگرمیاں اور خواتین کی قلبی صحت سے متعلق آگاہی مہمات جاری رکھی جائیں گی۔ اس مہم کا پیغام واضح ہے کہ خواتین کی صحت میں ان کے دل کی صحت کو بھی وہی اہمیت ملنی چاہیے جس کی وہ مستحق ہے۔

عالمی یومِ قلب سے قبل کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین امراض قلب، فزیشنز اور ماہرین امراض نسواں نے کہا کہ غلط تصورات، اسکریننگ کی کمی اور زچگی کے بعد مناسب طبی نگرانی نہ ہونے کے باعث خواتین میں دل کے امراض کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز کے پروفیسر آف کارڈیالوجی پروفیسر ڈاکٹر منصور احمد نے کہا کہ ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ خواتین کو دل کی بیماریاں نہیں ہوتیں، لیکن اب تحقیق نے اس خیال کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دل کی بیماریاں مردوں اور خواتین دونوں کو لاحق ہوتی ہیں، مگر پاکستانی خواتین گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنی صحت کو نظرانداز کر دیتی ہیں۔ گھر والے بھی خواتین کی صحت، اسکریننگ اور علاج پر مناسب توجہ نہیں دیتے جبکہ جسمانی سرگرمی کی کمی ان کے لیے خطرہ مزید بڑھا رہی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر منصور احمد نے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور ذیابیطس کے مریضوں میں دل کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ذیابیطس، بلڈ پریشر یا موٹاپے کی شکار خواتین کی باقاعدہ اسکریننگ ضروری ہے تاکہ دل کی بیماری کو سنگین ہونے سے پہلے معلوم کیا جا سکے۔

سوسائٹی آف آبسٹیٹریشنز اینڈ گائناکالوجسٹس آف پاکستان کی سیکریٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر تزئین عباس نے کہا کہ حمل، زچگی کے بعد اور سن یاس کے دوران خواتین کے دل کی صحت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سی خواتین حاملہ ہونے کے بعد اپنی دوائیں چھوڑ دیتی ہیں جبکہ بعض خواتین زچگی کے بعد بھی بلڈ پریشر کی دوا لینا بند کر دیتی ہیں۔ خواتین کو ازخود دوا بند کرنے کے بجائے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ ضرورت کے مطابق دوا تبدیل یا اس کی مقدار کم یا زیادہ کی جا سکے۔

پروفیسر ڈاکٹر تزئین عباس نے کہا کہ حمل کے دوران سامنے آنے والے بلڈ پریشر کو بچے کی پیدائش کے بعد اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ خاتون کو اس کے بعد بھی صحت کے خطرات لاحق رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حمل کے دوران یا بچے کی پیدائش کے قریب دل کے پٹھوں کی کمزوری، جسے پریگنینسی سے منسلک کارڈیو مایوپیتھی کہا جاتا ہے، بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں سنگین ثابت ہو سکتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر تزئین عباس نے کہا کہ خون کی کمی اور بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ نہ ہونا بھی خواتین کی صحت پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ اور زچگی کے بعد مسلسل طبی نگرانی ضروری ہے۔

انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ باقاعدگی سے ورزش کریں اور بیکری کی اشیا، تلی ہوئی غذاؤں، کولڈ ڈرنکس اور میٹھے مشروبات کا استعمال کم کریں۔ خواتین پورا دن گھریلو کاموں میں مصروف رہتی ہیں، لیکن اسے باقاعدہ ورزش کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

ماہر امراض نسواں ڈاکٹر حلیمہ یاسمین نے کہا کہ ان کے کلینیکل مرکز میں اسکریننگ کے دوران تقریباً چار فیصد حاملہ خواتین میں دل کی بیماری کی تشخیص ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حمل کے دوران خواتین کے بلڈ پریشر اور دل کی جانچ سے پہلے سے موجود مگر غیر تشخیص شدہ بیماری سامنے آ سکتی ہے۔ دل کے مرض میں مبتلا حاملہ خواتین کو حمل کے دوران اور زچگی کے بعد ماہر امراض نسواں، فزیشن اور ماہر امراض قلب کی مشترکہ نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی شعبہ طب کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شبنم نوید نے کہا کہ اسکریننگ کی کمی پاکستانی خواتین میں دل کے امراض کی روک تھام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال کے ذیابیطس کلینک میں آنے والی 90 فیصد سے زائد خواتین میں دل کے امراض کے خطرے کی علامات موجود تھیں۔ اگرچہ یہ اعدادوشمار ذیابیطس میں مبتلا اسپتال آنے والی خواتین کے ہیں، تاہم ان سے ذیابیطس، بلڈ پریشر، موٹاپے اور دل کی بیماری کے درمیان مضبوط تعلق ظاہر ہوتا ہے۔

پاکستان کارڈیک سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر فواد فاروق نے کہا کہ ذہنی دباؤ بھی دل کی بیماری کا ایک اہم سبب ہے۔ خواتین جگہ اور وقت کی کمی کے باوجود گھر یا کام کی جگہ پر چہل قدمی اور دوسری جسمانی سرگرمیاں اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بنیادی اور ثانوی سطح پر دل کے مریضوں کی تشخیص اور علاج کا مؤثر نظام موجود نہ ہونے کی وجہ سے خصوصی امراض قلب کے اسپتالوں میں ہارٹ اٹیک اور سینے میں درد کے مریضوں کا بہت زیادہ دباؤ ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر فواد فاروق نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی میں ایک مریض کے لیے مختص جگہ پر بعض اوقات کئی مریضوں کو سنبھالنا پڑتا ہے جبکہ ایک ہی وقت میں ہارٹ اٹیک کے متعدد مریض پہنچ جاتے ہیں۔ صرف بڑے اسپتال ملک میں دل کے مریضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ نہیں سنبھال سکتے۔

انہوں نے کہا کہ بعض مریض انجیو پلاسٹی کے چند ہفتوں بعد ہی تجویز کردہ دوائیں چھوڑ دیتے ہیں، جس سے مزید پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، مریضوں کی مسلسل نگرانی اور ادویات کا استعمال جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے انتباہ کی تائید 2026 میں طبی جریدے “جے اے سی سی ایشیا” میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے بھی ہوتی ہے، جس میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کا موازنہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق 2021 میں ان پانچ ممالک میں پاکستانی خواتین میں دل کی شریانوں کے مرض سے اموات کی شرح سب سے زیادہ تھی۔ پاکستان واحد ملک تھا جہاں تخمینہ شدہ مریضوں کے مقابلے میں اموات کا تناسب خواتین میں مردوں سے زیادہ تھا، جو خواتین میں 4.4 فیصد اور مردوں میں 3.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

تحقیق میں بلند فشار خون اور سبزیوں اور فائبر کی کم مقدار والی خوراک کو پاکستانی خواتین میں دل کی بیماری سے اموات کے اہم اسباب قرار دیا گیا۔

فارمیوو کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ ثمر اقبال نے کہا کہ ڈسکورنگ ڈائیبیٹیز اور ڈسکورنگ ہائپرٹینشن پروگرام ایسے افراد کی شناخت اور آگاہی کے لیے کام کر رہے ہیں جو اپنی بیماری سے لاعلم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہم میں اب خواتین کے دل کی صحت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اسکریننگ، بیماری سے بچاؤ اور بروقت علاج کے لیے مختلف طبی انجمنوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جا رہا ہے۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/BRIv2qi
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post