پلیٹ نہیں کیلے کا پتہ !! : حیرت انگیز طبی فوائد سامنے آگئے

کیلے کے پتے پر کھانا رکھ کر کھانا روایتی اور سائنسی دونوں لحاظ سے انتہائی مفید ہے، یہ صحت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست بھی ہے۔

کیلے کے پتے پر کھانا پیش کرنے اور کھانے کی روایت صدیوں سے بھارت سمیت ایشیا کے مختلف خطوں میں رائج ہے۔

ماہرین کے مطابق کیلے کے پتوں میں قدرتی طور پر پولی فینولز پائے جاتے ہیں، جو طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس سمجھے جاتے ہیں، یہ اجزا جسم میں موجود فری ریڈیکلز کے اثرات کو کم کرکے مختلف بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

کیلے کے پتے

تحقیقی جائزوں کے مطابق کیلے کے پتوں میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں، جو کھانے میں موجود بعض نقصان دہ جراثیم کی افزائش کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں، جس سے بیماریوں کا خطرہ کم ہونے کا امکان رہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب گرم کھانا کیلے کے پتے پر رکھا جاتا ہے تو پتے میں موجود قدرتی تیل اور مومی اجزا کھانے میں شامل ہو کر اس کے ذائقے اور خوشبو کو بہتر بناتے ہیں، جس سے کھانے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کیلے کے پتوں میں وٹامن اے، وٹامن سی اور دیگر مفید اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں، جو کھانے کی غذائی افادیت میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

کیلے کے پتے پر گرم کھانا

ماہرین صحت کے مطابق کیلے کے پتوں میں موجود بعض قدرتی مرکبات نظامِ ہاضمہ کو متحرک کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے کھانا بہتر طور پر ہضم ہوتا ہے اور معدے پر بوجھ کم پڑتا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین بھی کیلے کے پتوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کیونکہ یہ مکمل طور پر بائیو ڈیگریڈیبل ہوتے ہیں اور پلاسٹک یا ڈسپوزایبل برتنوں کے مقابلے میں ماحول دوست متبادل سمجھے جاتے ہیں۔

 



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/UWSepGr
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post