کراچی کا مستقل حل صرف نیا صوبہ ہے، خالد مقبول صدیقی

کراچی : وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے سندھ حکومت سے سوال کیا ہے کہ گزشتہ 15 سال میں این ایف سی سے ملنے والا پیسہ کہاں گیا؟ کراچی کا مستقل حل صرف نیا صوبہ ہے۔

کراچی ڈائیلاگ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد تو قائداعظم کے پاکستان میں آئے تھے نہ جانے کس نے بھٹو کے پاکستان میں دھکیل دیا۔

کراچی میں میٹرو بس اور ماس ٹرانزٹ منصوبہ اس لیے نہیں بن سکا کیونکہ یہاں زرداری صاحب آگئے تھے، کراچی کا مستقل حل صرف شہری علاقوں پر مشتمل نیا صوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کا الزام لگایا گیا لیکن آج تک ثابت نہیں کرسکے، حکیم سعید، امجد صابری قتل کا الزام بھی لگایا گیا لیکن ثابت نہ کرسکے،

ہم سے کہا گیا کہ کوئی مہاجر وزیراعلیٰ نہیں بن سکتا، اس لیے شہری علاقوں پر مشتمل نیا صوبہ لازمی بننا چاہیے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان پر لسانیت کے الزامات کے حوالے سے خالد مقبول نے ن لیگ کا نام لیے بغیر کہا کہ جب انہیں مشکل پڑتی ہے تو جاگ پنجابی جاگ کا بھی نعرہ لگتا ہے، کیا پیپلز پارٹی اور اے این پی لسانی جماعتیں نہیں؟

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ وفاق نے پنجاب کو پیسہ دیا انہوں نے لاہور میں لگایا لیکن صوبہ سندھ کو این ایف سی سے15سال میں22ہزار ارب روپے ملے وہ پیسہ کہاں چلا گیا؟

انہوں نے سوال کیا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے سب سے بڑا ٹرانزٹ منصوبہ منظورکرایا تھا آج تک کیوں نہیں بن سکا؟ 2006میں میٹرو بس کا منصوبہ منظور کرایا اب تک کیوں نہیں چلیں؟ 2008میں کراچی گیارہ ترقی یافتہ ممالک میں شامل تھا،اس کے بعد اسے کیا ہوگیا؟

ایم کیو ایم چیئرمین نے کہا کہ فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے دور میں جتنا اختیار تھا کراچی کو بنایا، 40ارب سے کراچی میں آئی ٹی پارک لگایا لیکن شورنہیں مچایا، نعمت اللہ خان، عبدالستار افغانی سے کام کرالیتے، کیوں فاروق ستار، مصطفی کمال کی ضرورت پڑی؟

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اتنا سچ بولتا ہوں جتنی جمہوریت آزاد ہے، ایک بار کہا لڑنا نہیں چاہتے لیکن اب لڑنا جانتے ہیں اس پر بھی اعتراض آگئے، وزیراعظم نے کہا تھا دسمبر میں کے فور مکمل ہوجائے گا۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/5wTpK2b
via IFTTT

Post a Comment

Previous Post Next Post